تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 32

قَالَتۡ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیۡ لُمۡتُنَّنِیۡ فِیۡہِ ؕ وَ لَقَدۡ رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ فَاسۡتَعۡصَمَ ؕ وَ لَئِنۡ لَّمۡ یَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُہٗ لَیُسۡجَنَنَّ وَ لَیَکُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾
اس عورت نے کہا تو وہ یہی ہے جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی اور بلاشبہ یقینا میں نے اسے اس کے نفس سے پھسلایا،مگر یہ صاف بچ گیا اور واقعی اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دیتی ہوں تو اسے ضرور ہی قید کیا جائے گا اور یہ ضرور ہی ذلیل ہونے والوں سے ہوگا۔ En
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
En
اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہے جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب ان عورتوں کے سامنے یوسف علیہ السلام کا ظاہری جمال متحقق ہوگیا اور یوسف علیہ السلام ان کو بہت ہی اچھے لگے تو عزیز مصر کی بیوی پر ان کا بہت کچھ عذر ظاہر ہوگیا، پھر اس نے چاہا کہ وہ ان عورتوں کو یوسف علیہ السلام کے باطنی جمال… یعنی عفت کامل… کا نظارہ کروائے چنانچہ اس عورت نے کسی چیز کی پروا کیے بغیر کیونکہ آج عورتوں کی طرف سے ملامت منقطع ہو گئی تھی… یوسف علیہ السلام سے اپنی شدید محبت کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتْ فَذٰلِكُ٘نَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے بارے میں اور میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، پس اس نے اپنے کو بچا لیا یعنی اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گویا وہ اب بھی یوسف علیہ السلام کو پھسلانے کے موقف پر قائم تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بے قراری، محبت اور شوق وصال میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا، لہٰذا اس نے ان عورتوں کی موجودگی میں یوسف علیہ السلام سے کہا: ﴿وَلَىِٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَ٘نَّ وَلَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَؔ اگر اس نے وہ کام نہ کیا، جس کا حکم میں اس کو دے رہی ہوں تو یہ یقینا قید کر دیا جائے گا اور بے عزت ہو گا تاکہ وہ اس دھمکی کے ذریعے سے جناب یوسف علیہ السلام سے اپنا مقصد حاصل کر سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تقرَّر عندهنَّ جمالُ يوسف الظاهر، وأعجبهنَّ غايةً، وظهر منهنَّ من العذر لامرأة العزيز شيءٌ كثيرٌ؛ أرادت أن تُرِيَهُنَّ جماله الباطن بالعفة التامَّة، فقالت معلنة لذلك ومبيِّنة لحبِّه الشديد غير مبالية ولأن اللَّوم انقطع عنها من النسوة: {ولقد راودتُه عن نفسه فاستعصمَ}؛ أي: امتنع، وهي مقيمة على مراودته، لم تزدها مرور الأوقات إلاَّ محبَّةً وشوقاً وقلقاً لوصاله وتوقاً، ولهذا قالت له بحضرتهنَّ: {ولئن لم يفعلْ ما آمرُهُ ليسجننَّ وليكونًا من الصَّاغرينَ}: لتلجِئَه بهذا الوعيد إلى حصول مقصودها منه.