ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 32

قَالَتۡ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیۡ لُمۡتُنَّنِیۡ فِیۡہِ ؕ وَ لَقَدۡ رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ فَاسۡتَعۡصَمَ ؕ وَ لَئِنۡ لَّمۡ یَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُہٗ لَیُسۡجَنَنَّ وَ لَیَکُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾
اس عورت نے کہا تو وہ یہی ہے جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی اور بلاشبہ یقینا میں نے اسے اس کے نفس سے پھسلایا،مگر یہ صاف بچ گیا اور واقعی اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دیتی ہوں تو اسے ضرور ہی قید کیا جائے گا اور یہ ضرور ہی ذلیل ہونے والوں سے ہوگا۔ En
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
En
اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہے جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ {قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ …: ذٰلِكُنَّ } میں اسم اشارہ {ذَا} ہی ہے، جس کے ساتھ مخاطب کی ضمیر یہ دیکھ کر لگائی جاتی ہے کہ مخاطب مرد ہے یا عورت، ایک ہے یا دو یا زیادہ، مثلاً آپ ایک شخص سے مخاطب ہیں اور اسے کسی آدمی کی طرف اشارہ کر کے کچھ بتانا چاہتے ہیں تو کہیں گے: {ذٰلِكَ الرَّجُلُ الْمَذْكُوْرُ} یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر کسی عورت سے بات کر رہے ہوں گے تو کہیں گے: { ذٰلِكِ الرَّجُلُ الْمَذْكُوْرُ } یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر آپ یہی بات کہنا چاہتے ہوں اور آپ کے مخاطب دو ہوں تو کہیں گے: {ذٰلِكُمَا الرَّجُلُ الْمَذْكُوْرُ} یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے قید کے دو ساتھیوں سے فرمایا: «{ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ [یوسف: ۳۷] یہ وہ چیز ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی۔ یہ معنی نہیں کہ یہ دو چیزیں۔ زیر تفسیر آیت میں عزیز کی بیوی کی مخاطب کئی عورتیں تھیں، اس لیے اس نے کہا: «{ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ اب {ذٰلِكُنَّ } کا معنی یہ سب عورتیں نہیں بلکہ اس کا معنی ہے یہ ہے وہ شخص۔ صرف مخاطب جمع مؤنث ہونے کی وجہ سے {ذٰلِكُنَّ} آیا ہے۔ اگر مخاطب بہت سے آدمی ہوتے تو اسی مفہوم کے لیے {ذٰلِكُمْ} آتا، جیسے فرمایا: «{ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ [البقرۃ: ۵۴] یہ چیز تمھارے لیے بہتر ہے۔
➋ { فَاسْتَعْصَمَ } سین اور تاء کے اضافے سے طلب کا معنی بھی حاصل ہوتا ہے اور مبالغے کا بھی۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے وہ صاف بچ گیا یا کہہ لیں بالکل بچ گیا۔ { لَيُسْجَنَنَّ } میں نون تاکید ثقیلہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے اسے ضرور ہی قید کیا جائے گا۔ { وَ لَيَكُوْنًا } یہ نون تاکید خفیفہ ہے، جسے عام طور پر لکھا جاتا ہے { وَلَيَكُوْنَنْ } مگر عربی رسم الخط وقف کے مطابق ہوتا ہے، چونکہ نون خفیفہ وقف میں الف ہو جاتا ہے، مثلاً یہی لفظ اگر اس پر وقف کریں تو اسے {لَيَكُوْنَنْ} نہیں پڑھا جائے گا بلکہ{ لَيَكُوْنَا } الف کے ساتھ پڑھا جائے، اس لیے اس نون کو الف کی شکل میں لکھا جاتا ہے، جیسا کہ {خَبِيْرًا } اور {بَصِيْرًا} وغیرہ میں نون تنوین {خَبِيْرَنْ، بَصِيْرَنْ} کے بجائے الف کی شکل میں ہے کہ وقف نہ ہو تو نون پڑھو، وقف ہو تو الف پڑھو۔ سورۂ علق میں { لَنَسْفَعًا } میں بھی نون تاکید خفیفہ ہے جو الف کی شکل میں لکھا گیا ہے۔
➌ بعض مفسرین نے { لَيُسْجَنَنَّ } میں نون تاکید ثقیلہ یعنی تشدید کے ساتھ اور { لَيَكُوْنًا } میں خفیفہ یعنی جزم کے ساتھ ہونے کی توجیہ فرمائی ہے کہ ثقیلہ میں تاکید زیادہ ہوتی ہے، تو عزیز کی بیوی کے خیال میں اس کے لیے یوسف علیہ السلام کو قید کروانا تو یقینی تھا، مگر ان کے ذلیل ہونے کا پورا یقین اسے بھی نہ تھا، بھلا ایسے کریم بن کریم بن کریم بن کریم کو ذلیل کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے اس نے لفظ نرم کر دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 جب زلیخا نے دیکھا اس کی چال کامیاب رہی ہے اور عورتیں یوسف ؑ کے جلوہ حسن آراء سے مد ہوش ہوگئیں تو کہنے لگی، کہ اس کی ایک جھلک سے تمہارا یہ حال ہوگیا ہے تو کیا تم اب بھی مجھے اس کی محبت میں گرفتار ہونے پر طعنہ زنی کروگی؟ یہی وہ غلام ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ 32۔ 2 عورتوں کی مد ہوشی دیکھ کر اس کو مزید حوصلہ ہوگیا اور شرم و حیا کے سارے حجاب دور کر کے اس نے اپنے برے ارادے کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ (زلیخا) کہنے لگی: یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی۔ [31] بیشک میں نے ہی اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بچ نکلا۔ اور اگر اب بھی اس نے میرا کہنا نہ مانا تو اسے قید کر دیا جائے گا اور ذلیل ہو جائے گا
[31] زلیخا کی دھمکی:۔
عورتوں کے یہ الفاظ در اصل زلیخا کے اس معاملہ میں سچا ہونے کا اعلان تھا۔ اب وہ ان عورتوں میں سر اٹھا کر کہنے لگی کہ بتلاؤ میں اس معاملہ میں کس قدر قصوروار تھی اور اب میں برملا کہتی ہوں کہ میں اس کے سامنے اپنا نقد دل ہار چکی ہوں اور اب میں اسے اپنی طرف مائل کرنے پر مجبور بھی کروں گی اور اگر اس نے پھر بھی میری بات کی طرف توجہ نہ دی تو میں اسے کسی دوسرے حیلے بہانے جیل بھجوا دوں گی یا اسے میری بات ماننا ہو گی یا پھر وہ ذلیل قید و بند کی مصیبت جھیلے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب ان عورتوں کے سامنے یوسف علیہ السلام کا ظاہری جمال متحقق ہوگیا اور یوسف علیہ السلام ان کو بہت ہی اچھے لگے تو عزیز مصر کی بیوی پر ان کا بہت کچھ عذر ظاہر ہوگیا، پھر اس نے چاہا کہ وہ ان عورتوں کو یوسف علیہ السلام کے باطنی جمال… یعنی عفت کامل… کا نظارہ کروائے چنانچہ اس عورت نے کسی چیز کی پروا کیے بغیر کیونکہ آج عورتوں کی طرف سے ملامت منقطع ہو گئی تھی… یوسف علیہ السلام سے اپنی شدید محبت کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتْ فَذٰلِكُ٘نَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے بارے میں اور میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، پس اس نے اپنے کو بچا لیا یعنی اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گویا وہ اب بھی یوسف علیہ السلام کو پھسلانے کے موقف پر قائم تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بے قراری، محبت اور شوق وصال میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا، لہٰذا اس نے ان عورتوں کی موجودگی میں یوسف علیہ السلام سے کہا: ﴿وَلَىِٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَ٘نَّ وَلَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَؔ اگر اس نے وہ کام نہ کیا، جس کا حکم میں اس کو دے رہی ہوں تو یہ یقینا قید کر دیا جائے گا اور بے عزت ہو گا تاکہ وہ اس دھمکی کے ذریعے سے جناب یوسف علیہ السلام سے اپنا مقصد حاصل کر سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تقرَّر عندهنَّ جمالُ يوسف الظاهر، وأعجبهنَّ غايةً، وظهر منهنَّ من العذر لامرأة العزيز شيءٌ كثيرٌ؛ أرادت أن تُرِيَهُنَّ جماله الباطن بالعفة التامَّة، فقالت معلنة لذلك ومبيِّنة لحبِّه الشديد غير مبالية ولأن اللَّوم انقطع عنها من النسوة: {ولقد راودتُه عن نفسه فاستعصمَ}؛ أي: امتنع، وهي مقيمة على مراودته، لم تزدها مرور الأوقات إلاَّ محبَّةً وشوقاً وقلقاً لوصاله وتوقاً، ولهذا قالت له بحضرتهنَّ: {ولئن لم يفعلْ ما آمرُهُ ليسجننَّ وليكونًا من الصَّاغرينَ}: لتلجِئَه بهذا الوعيد إلى حصول مقصودها منه.