تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 26

قَالَ ہِیَ رَاوَدَتۡنِیۡ عَنۡ نَّفۡسِیۡ وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۶﴾
اس (یوسف)نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔ En
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
En
یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی، اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یوسف علیہ السلام نے اس الزام سے، جو اس عورت نے لگایا تھا، اپنے آپ کو بری کرتے ہوئے کہا: ﴿هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّ٘فْ٘سِیْ اسی نے مجھ کو مائل کرنا چاہا تھا۔ اس صورت حال میں دونوں کی صداقت کا احتمال تھا مگر یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا تھا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور صداقت کی کچھ علامات اور نشانیاں مقرر فرمائی ہیں۔ جو حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں جنھیں بسااوقات بندے جانتے ہیں اور بسا اوقات نہیں جانتے، چنانچہ اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے کی پہچان سے نوازا تاکہ اس کے نبی اور چنیدہ بندے، جناب یوسف علیہ السلام کی براء ت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے گھر والوں میں سے ایک شاہد کو کھڑا کر دیا اور اس نے قرینے کی گواہی دی کہ جس کے پاس یہ قرینہ موجود ہوگا وہی سچا ہے۔ اس گواہ نے کہا: ﴿ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُ٘بُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے کیونکہ یہ صورت حال دلالت کرتی ہے کہ یوسف ہی بڑھ کر اس عورت پر ہاتھ ڈالنے والے، اس کو پھسلانے والے اور زور آزمائی کرنے والے تھے اور وہ عورت تو بس اپنی مدافعت کر رہی تھی اور اس نے اپنی مدافعت کی حالت میں اس جانب سے یوسف کا کرتہ پھاڑ ڈالا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فبرَّأ نفسه مما رمته به، و {قال هي راوَدَتْني عن نفسي}: فحينئذٍ احتملتِ الحالُ صدقَ كلِّ واحد منهما، ولم يعلم أيهما، ولكنَّ الله تعالى جعل للحقِّ والصدق علاماتٍ وأماراتٍ تدلُّ عليه، قد يعلَمُها العبادُ وقد لا يعلمونَها؛ فمنَّ الله [تعالى] في هذه القضية بمعرفة الصادق منهما تبرئةً لنبيِّه وصفيِّه يوسف عليه السلام، فانبعث شاهد من أهل بيتها يشهدُ بقرينةٍ مَنْ وجدت معه فهو الصادق، فقال: {إن كان قميصُهُ قُدَّ من قُبُل فصَدَقَتْ وهو من الكاذبين}؛ لأن ذلك يدلُّ على أنه هو المقبل عليها المراوِدُ لها المعالج، وأنها أرادت أن تدفعه عنها، فشقَّت قميصه من هذا الجانب.