تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 27

وَ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَکَذَبَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۷﴾
اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے جھوٹ کہا اور یہ سچوں سے ہے۔ En
اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے
En
اور اگر اس کا کرتا پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیاہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰؔدِقِیْنَ اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے کیونکہ یہ صورت حال جناب یوسف علیہ السلام کے اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ عورت ہی ہے جس نے یوسف علیہ السلام پر ڈورے ڈالنے چاہے اور اس طرح کرتہ اس جانب سے پھٹ گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإن كان قميصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فكذبتْ وهو من الصادقين}: لأنَّ ذلك يدلُّ على هروبه منها؛ وأنَّها هي التي طلبتْه، فشقَّت قميصَه من هذا الجانب.