اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا، اس عورت نے کہا کیا جزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے، یا دردناک سزا ہو۔
En
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے یوسف کا کرتا پیچھے کی طرف سے کھینچ کر پھاڑ ڈاﻻ اور دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا، تو کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا اراده کرے بس اس کی سزا یہی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا اور کوئی دردناک سزا دی جائے۔
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب حضرت یوسف علیہ السلام اس عورت کی طرف سے بدی کی سخت ترغیب کے باوجود اس کی خواہش پوری کرنے سے ممتنع رہے اور وہ اس عورت سے اپنے آپ کو چھڑا کر دروازے کی طرف تیزی سے بھاگے تاکہ وہ بھاگ کر اس فتنہ سے بچ کر نکل جائیں تو وہ عورت بھی ان کی پیچھے بھاگی اور پیچھے سے ان کی قمیص کا دامن پکڑ لیا اور ان کی قمیص پھاڑ ڈالی۔ جب وہ دونوں اس حالت میں دروازے پر پہنچے تو انھوں نے دروازے پر عورت کے خاوند کو موجود پایا اس نے یہ معاملہ دیکھا تو اسے سخت شاق گزرا۔ اس عورت نے فوراً جھوٹ گھڑ لیا اور دعویٰ کیا کہ یوسف اس کے ساتھ زیادتی کرنا چاہتا تھا اور کہنے لگی: ﴿ مَاجَزَآءُمَنْاَرَادَبِاَهْلِكَسُوْٓءًا﴾”اس شخص کی کیا سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے“ اور یہ نہیں کہا ﴿من فعل باھلک سوء ا﴾”جس نے تیری بیوی کے ساتھ برائی کی“ کیونکہ وہ اپنے آپ کو اور یوسف علیہ السلام کو اس فعل سے بری ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ تمام نزاع تو صرف برائی کے ارادے اور ڈورے ڈالنے کے بارے میں تھا۔ ﴿ اِلَّاۤاَنْیُّسْجَنَاَوْعَذَابٌاَلِیْمٌ ﴾”مگر یہی کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا اسے دردناک سزا دی جائے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما امتنع من إجابة طلبها بعد المراودة الشديدة؛ ذهب ليهربَ منها ويبادِرَ إلى الخروج من الباب ليتخلَّص ويهرب من الفتنة، فبادرتْه إليه وتعلَّقت بثوبِهِ، فشقَّت قميصَه، فلمَّا وصلا إلى الباب في تلك الحال؛ ألْفَيا سيِّدَها ـ أي: زوجها ـ لدى الباب، فرأى أمراً شقَّ عليه، فبادرتْ إلى الكذب، وأن المراودة قد كانت من يوسف، وقالت: {ما جزاءُ مَنْ أراد بأهلك سوءاً}: ولم تقلْ: من فعل بأهلك سوءاً؛ تبرئةً لها وتبرئةً له أيضاً من الفعل، وإنما النِّزاع عند الإرادة والمراودة، {إلاَّ أن يُسْجَنَ أو عذابٌ أليم}؛ أي: أو يعذَّب عذاباً أليماً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔