تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے۔ (المُبِین) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح و تبیین ہے ﴿ لَّعَلَّكُمْتَعْقِلُوْنَؔ﴾”تاکہ تم سمجھو“ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لو گے اور تمھارے دل اس کی معرفت سے لبریز ہو جائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور ﴿ لَّعَلَّكُمْتَعْقِلُوْنَؔ﴾ یعنی تمھارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمھاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنیٰ حال سے اعلیٰ و اکمل احوال میں منتقل ہو جاؤ گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن بيانه وإيضاحه أنَّه أنزله باللسان العربيِّ، أشرف الألسنة وأبينها، المبين لكلِّ ما يحتاجه الناس من الحقائق النافعة، وكلُّ هذا الإيضاح والتبيين {لعلَّكم تعقِلون}؛ أي: لتعقلوا حدوده وأصوله وفروعه وأوامره ونواهيه؛ فإذا عَقَلْتم ذلك بإيقانكم، واتَّصفت قلوبُكم بمعرفتها؛ أثمر ذلك عمل الجوارح والانقياد إليه، و {لعلَّكم تعقلون}؛ أي: تزداد عقولكم بتكرُّر المعاني الشريفة العالية على أذهانكم، فتنتقلون من حال إلى أحوال أعلى منها وأكمل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔