تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 3

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ٭ۖ وَ اِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۳﴾
ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں، اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے اور بے شک تو اس سے پہلے یقینا بے خبروں سے تھا۔ En
(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے
En
ہم آپ کے سامنے بہترین بیان پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں سے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿نَحْنُ نَقُ٘صُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْ٘قَ٘صَصِ ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔ ﴿ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰؔذَا الْ٘قُ٘رْاٰنَ اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ٘ لَ٘مِنَ الْغٰفِلِیْ٘نَ اور یقینا اس سے پہلے آپ بے خبروں میں سے تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ مگر ہم نے اسے روشنی بنایا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ ہدایت دکھاتے ہیں۔
چونکہ یہ قرآن کریم جن قصوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی نیز ذکر فرمایا کہ یہ قصہ علی الاطلاق بہترین قصہ ہے اور تمام کتابوں میں کوئی قصہ ایسا نہیں ملتا جیسا اس قرآن میں پایا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام، ان کے والد یعقوب علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کا نہایت خوبصورت اور تعجب انگیز قصہ ذکر فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{نحن نقصُّ عليك أحسن القصص}؛ وذلك لصدقها وسلاسة عبارتها ورَوْنق معانيها، {بما أوحَيْنا إليك هذا القرآن}؛ أي: بما اشتمل عليه هذا القرآن الذي أوحَيْناه إليك وفضَّلناك به على سائر الأنبياء، وذاك محضُ منَّة من الله وإحسان. {وإن كنتَ من قبلِهِ لمن الغافلين}؛ أي: ما كنت تدري ما الكتاب ولا الإيمان قبل أن يوحي الله إليك، ولكنْ جَعَلْناه نوراً نهدي به مَن نشاءُ مِن عبادنا.

ولما مدح ما اشتمل عليه هذا القرآن من القصص وأنها أحسن القصص على الإطلاق؛ فلا يوجد من القصص في شيء من الكتب مثل هذا القرآن؛ ذكر قصة يوسف وأبيه وإخوته، القصة العجيبة الحسنة فقال: