تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 19

وَ جَآءَتۡ سَیَّارَۃٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَہُمۡ فَاَدۡلٰی دَلۡوَہٗ ؕ قَالَ یٰبُشۡرٰی ہٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَ اَسَرُّوۡہُ بِضَاعَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور ایک راہ چلتا قافلہ آیا تو انھوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا، سو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ کہا اوہ! خوشخبری ہو! یہ ایک لڑکا ہے۔ اور انھوں نے اسے سامان تجارت بناکر چھپا لیا اور اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے تھے۔ En
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
En
اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی ﻻنے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا، کہنے لگا واه واه خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے، انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا دیا اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وه کر رہے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جناب یوسف علیہ السلام کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے ﴿ وَجَآءَتْ سَیَّارَةٌ ایک قافلہ آوارد ہوا۔ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا ﴿ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ انھوں نے اپنے ہراول سقے کو بھیجا اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔ ﴿ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسف علیہ السلام اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے ﴿ قَالَ یٰبُشْ٘رٰى هٰؔذَا غُلٰ٘مٌ یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا یہ تو قیمتی غلام ہے ﴿ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً اور اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: مكث يوسف في الجبِّ ما مكث، حتى {جاءت سيَّارةٌ}؛ أي: قافلة تريد مصر، {فأرسلوا وارِدَهم}؛ أي: فرطهم ومقدَّمهم الذي يعسُّ لهم المياه ويسبرها ويستعد لهم بتهيئة الحياض ونحو ذلك، {فأدلى}: ذلك الواردُ {دَلْوَهُ}: فتعلَّق فيه يوسف عليه السلام وخرج، فقال: {يا بُشرى هذا غلامٌ}؛ أي: استبشر وقال: هذا غلامٌ نفيسٌ، {وأسَرُّوه بضاعةً}.