تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 18

وَ جَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَ اللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور وہ اس کی قمیص پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمھارے لیے تمھارے دلوں نے ایک کام مزین بنا دیا ہے، سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔ En
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
En
اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَ اور انھوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا ﴿ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسف علیہ السلام کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑیے نے یوسف علیہ السلام کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا ﴿ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا انھوں (یعقوب) نے کہا بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔ یعنی تمھارے نفس نے میرے اور یوسف علیہ السلام کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے ایک برے کام کو تمھارے سامنے مزین کر دیا کیونکہ قرائن و احوال اور یوسف علیہ السلام کا خواب، یعقوب علیہ السلام کے اس قول پر دلالت کرتے تھے۔ ﴿ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَؔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔ یعنی رہا میں تو میرا وظیفہ… جس کو قائم رکھنا چاہتا ہوں … یہ ہے کہ میں اس آزمائش پر صبر جمیل سے کام لوں گا۔ مخلوق کے پاس اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہیں کروں گا۔ میں اپنے اس وظیفے پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں۔ میں اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہیں کرتا۔ جناب یعقوب علیہ السلام نے اپنے دل میں اس امر کا وعدہ کیا اور اپنے خالق کے پاس اپنے اس صدمے کی شکایت ان الفاظ میں کی ﴿ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ (یوسف: 12؍86) میں تو اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ کے پاس کرتا ہوں۔ کیونکہ خالق کے پاس شکوہ کرنا صبر کے منافی نہیں اور نبی جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{و} مما أكَّدوا به قولهم أنهم: {جاؤوا على قميصه بدم كذبٍ}: زعموا أنَّه دمُ يوسف حين أكله الذئب، فلم يصدِّقْهم أبوهم بذلك، و {قال بل سوَّلت لكم أنفسُكم أمراً}؛ أي: زينت لكم أنفسكم أمراً قبيحاً في التفريق بيني وبينه؛ لأنه رأى من القرائن والأحوال ومن رؤيا يوسف التي قصها عليه ما دلَّه على ما قال. {فصبرٌ جميلٌ والله المستعانُ على ما تصفونَ}؛ أي: أمَّا أنا؛ فوظيفتي سأحرص على القيام بها، وهي أني أصبر على هذه المحنة صبراً جميلاً سالماً من السخط والتشكي إلى الخلق، وأستعين الله على ذلك لا على حولي وقوتي، فوعد من نفسه هذا الأمر، وشكا إلى خالقه في قوله: {إنَّما أشكو بثِّي وحُزْني إلى الله}: لأنَّ الشكوى إلى الخالق لا تنافي الصبر الجميل؛ لأنَّ النبيَّ إذا وعد وفى.