تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یوسف علیہ السلام کے بھائی بھی کہیں قریب ہی تھے۔ قافلے والوں نے یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا ﴿ بِثَ٘مَنٍۭؔبَخْسٍ﴾”بہت ہی معمولی قیمت میں “پھر اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی: ﴿ دَرَاهِمَمَعْدُوْدَةٍ١ۚوَكَانُوْافِیْهِمِنَالزَّاهِدِیْنَ﴾”چند درہموں میں اور وہ اس سے بیزار ہو رہے تھے“ کیونکہ ان کا مقصد تو صرف یوسف علیہ السلام کو غائب کر کے اپنے باپ سے جدا کرنا تھا۔ ان کا مقصد یوسف علیہ السلام کی قیمت حاصل کرنا نہ تھا۔
اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب یوسف علیہ السلام اس قافلے کے ہاتھ لگ گئے تو قافلے والوں نے ان کے معاملے کو چھپانے کا عزم کر لیا تاکہ وہ انھیں بھی اپنے سامان تجارت میں شامل کر لیں، حتیٰ کہ ان کے بھائی آگئے اور انھوں نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں ظاہر کیا کہ وہ ان کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ پس قافلے والوں نے انھیں اس معمولی قیمت پر خرید لیا اور انھوں نے قافلے والوں سے یقین حاصل کیا کہ وہ بھاگ نہ جائے۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكان إخوته قريباً منه، فاشتراه السيارةُ منهم {بثمنٍ بخسٍ}؛ أي: قليل جدًّا، فسَّره بقوله: {دراهمَ معدودةٍ وكانوا فيه من الزَّاهدينَ}: لأنه لم يكن لهم قصدٌ إلا تغييبه وإبعاده عن أبيه، ولم يكن لهم قصدٌ في أخذ ثمنه. والمعنى في هذا أنَّ السيارة لما وجدوه؛ عزموا أن يُسِرُّوا أمره، ويجعلوه من جملة بضائعهم التي معهم، حتى جاءهم إخوته، فزعموا أنَّه عبدٌ أبق منهم، فاشتروه منهم بذلك الثمن، واستوثقوا منهم فيه لئلا يهربَ. والله أعلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔