بلاشبہ یقینا ان کے بیان میں عقلوں والوں کے لیے ہمیشہ سے ایک عبرت ہے، یہ ہرگز ایسی بات نہیں جو گھڑ لی جائے اور لیکن اس کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔
En
ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں، کھول کھول کر بیان کرنے واﻻ ہے ہر چیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿لَقَدْكَانَفِیْقَصَصِهِمْ ﴾”ان کے قصے میں۔“ یعنی انبیاء و رسل کے اپنی قوم کے ساتھ قصے میں ﴿ عِبْرَةٌلِّاُولِیالْاَلْبَابِ﴾”عقل والوں کے لیے عبرت ہے“ یعنی وہ اہل خیر اور اہل شر کے بارے میں عبرت لیتے ہیں۔ جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا تو اپنے فعل کے مطابق کرامت یا اہانت کا مستحق ٹھہرے گا۔ وہ ان قصوں میں سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی عظیم حکمت کا استنباط کرتے ہیں۔ نیز وہ ان قصوں سے اس حقیقت کو اخذ کرتے ہیں کہ اللہ واحد کے سوا عبادت کسی کے لیے مناسب نہیں۔
﴿ مَاكَانَحَدِیْثًایُّفْتَرٰى ﴾”یہ ایسی بات نہیں جو بنالی گئی ہو۔“ یعنی یہ قرآن جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں غیب کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے، گھڑی ہوئی باتوں اور خود ساختہ کہانیوں پر مشتمل نہیں ہے۔ ﴿ وَلٰكِنْتَصْدِیْقَالَّذِیْبَیْنَیَدَیْهِ ﴾”بلکہ جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرنے والا ہے۔“ بلکہ کتب سابقہ کی تصدیق، ان کی موافقت اور ان کی صحت کی شہادت پر مشتمل ہے۔ ﴿ وَتَفْصِیْلَكُ٘لِّشَیْءٍ ﴾”اور ہر چیز کی تفصیل ہے۔“ بندے جن کے محتاج ہیں، مثلاً:دین کے اصول و فروع اور دلائل و براہین۔ ﴿ وَّهُدًىوَّرَحْمَةًلِّقَوْمٍیُّؤْمِنُوْنَ ﴾”اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے“ یعنی اس سبب سے کہ اس قرآن کے ذریعے سے انھیں جو حق کا علم حاصل ہوتا ہے اور وہ حق کو ترجیح دیتے ہیں … انھیں ہدایت حاصل ہوتی ہے اور انھیں جو دنیاوی یا اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے اس کے ذریعے سے رحمت سے نوازے جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لقد كان في قصصهم}؛ أي: قصص الأنبياء والرسل مع قومهم {عبرةٌ لأولي الألباب}؛ أي: يعتبرون بها أهل الخير وأهل الشر، وأنَّ مَن فعل مثلَ فعلهم؛ ناله ما نالهم من كرامة أو إهانة، ويعتبرون بها أيضاً ما لله من صفات الكمال والحكمة العظيمة، وأنَّه الله الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له وحده لا شريك له. وقوله: {ما كان حديثاً يُفْتَرى}؛ أي: ما كان هذا القرآن الذي قصَّ الله به عليكم من أنباء الغيب ما قصَّ من الأحاديث المُفْتَراة المختَلَقَة. {ولكنْ}: كان {تصديقَ الذي بين يديه}: من الكتب السابقة؛ يوافقها ويشهدُ لها بالصحة، {وتفصيلَ كلِّ شيءٍ}: يحتاجُ إليه العباد من أصول الدين وفروعه ومن الأدلَّة والبراهين. {وهدىً ورحمةً لقوم يؤمنون}: فإنَّهم بسبب ما يحصُلُ لهم به من العلم بالحقِّ وإيثاره يحصُلُ لهم الهدى، وبما يحصُلُ لهم من الثواب العاجل والآجل تحصُلُ لهم الرحمة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔