تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوْۤا ﴾”کیا یہ بے خوف ہیں۔“ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنْتَاْتِیَهُمْغَاشِیَةٌمِّنْعَذَابِاللّٰهِ ﴾”ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے“ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوْتَاْتِیَهُمُالسَّاعَةُبَغْتَةً ﴾”یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔“﴿ وَّهُمْلَایَشْ٘عُرُوْنَ ﴾”اور ان کو خبر نہ ہو“ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فهؤلاء الذين وصلوا إلى هذه الحال لم يبقَ عليهم إلا أنْ يَحِلَّ بهم العذاب ويفجأهم العقابُ وهم آمنون، ولهذا قال: {أفأمِنوا}؛ أي: الفاعلون لتلك الأفعال، المعرضون عن آيات الله، {أن تأتِيَهُم غاشيةٌ من عذاب الله}؛ أي: عذابٌ يغشاهم ويَعُمُّهم ويستأصِلُهم، {أو تأتيهمُ الساعةُ بغتةً}؛ أي: فجأة، {وهم لا يشعُرونَ}؛ أي: فإنَّهم قد استوجبوا لذلك؛ فَلْيتوبوا إلى الله، ويَتْرُكوا ما يكون سبباً في عقابهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔