تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 106

وَ مَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔ En
اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں
En
ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَ اور ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا یُؤْمِنُ اَ كْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْ٘رِكُوْنَ ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا، إنْ وُجِدَ منهم بعضُ الإيمان، فلا {يؤمِنُ أكثرُهم بالله إلاَّ وهم مشركونَ}: فهم وإن أقرُّوا بربوبيَّةِ الله تعالى وأنَّه الخالق الرازق المدبِّر لجميع الأمور؛ فإنَّهم يشركون في ألوهيَّة الله وتوحيده.