تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 105

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ یَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہَا وَ ہُمۡ عَنۡہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بے دھیان ہوتے ہیں۔ En
اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں
En
آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن سے یہ منھ موڑے گزر جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَؔكَاَیِّنْ اور کتنی ہی ﴿ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكأيِّنْ}؛ أي: وكم {من آيةٍ في السمواتِ والأرض يمرُّون عليها}: دالَّة لهم على توحيد الله، {وهم عنها معرضونَ}.