تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 104

وَ مَا تَسۡـَٔلُہُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾٪
حالانکہ تو ان سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔ یہ تو جہانوں کے لیے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔ En
اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے
En
آپ ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں۔ یہ تو تمام دنیا کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسْـَٔؔلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْ٘عٰلَمِیْنَ اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وما تسألُهم عليه من أجرٍ إنْ هو إلاَّ ذِكْرٌ للعالمينَ}: يتذكَّرون به ما ينفعُهم لِيفعلوه، وما يضرُّهم ليترُكوه.