تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 103

وَ مَاۤ اَکۡثَرُ النَّاسِ وَ لَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾
اور اکثر لوگ، خواہ تو حرص کرے، ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ En
اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں
En
گو آپ لاکھ چاہیں لیکن اکثر لوگ ایمان دار نہ ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں۔ ﴿ بِمُؤْمِنِیْنَ ایمان لانے والے کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيه محمد - صلى الله عليه وسلم -: {وما أكثرُ الناس ولو حرصتَ}: على إيمانهم {بمؤمنينَ}: فإنَّ مداركهم ومقاصِدَهم قد أصبحت فاسدةً؛ فلا ينفعهم حرصُ الناصحين عليهم، ولو عدمت الموانع؛ بأنْ كانوا يعلِّمونهم ويدعونهم إلى ما فيه الخير لهم ودفع الشرِّ عنهم من غير أجرٍ ولا عوض، ولو أقاموا لهم من الشواهد والآيات الدالاَّتِ على صدقِهِم ما أقاموا.