یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، جو ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو ان کے پاس نہ تھا جب انھوں نے اپنے کام کا پختہ ارادہ کیا اور وہ خفیہ تدبیر کر رہے تھے۔
En
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ خبر جس سے ہم نے آپ کو آگاہ کیا ہے۔ ﴿ مِنْاَنْۢبـَآءِالْغَیْبِنُوْحِیْهِاِلَیْكَ ﴾”غیب کی خبریں ہیں، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں “ اور اگر ہم آپ کی طرف وحی نہ کرتے تو اس جلیل القدر واقعہ کی خبر آپ تک نہ پہنچ سکتی۔ ﴿ وَمَاكُنْتَلَدَیْهِمْ ﴾”اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے۔“﴿ اِذْاَجْمَعُوْۤااَمْرَهُمْ ﴾”جب وہ اتفاق کر رہے تھے اپنے کام پر“ یعنی یوسف کے بھائی فریب پر اتفاق کر رہے تھے۔ ﴿ وَهُمْیَمْؔكُرُوْنَ ﴾”اور وہ چال چل رہے تھے۔“ جبکہ ان کے اور ان کے باپ کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے اس طرح سازش کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہی تھا کہ اصل واقعہ معلوم کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اصل واقعہ سے آگاہ نہ کرے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد وہ حالات بیان فرمائے جن کا علم، اللہ کی وحی کے بغیر مخلوق کو حاصل نہیں ہو سکتا تو وہاں فرمایا: ﴿ وَمَاكُنْتَبِجَانِبِالْ٘غَرْبِیِّاِذْقَضَیْنَاۤاِلٰىمُوْسَىالْاَمْرَوَمَاكُنْتَمِنَالشّٰهِدِیْنَ…﴾ (القصص: 28؍44) ”اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی تو آپ طور کے غربی جانب نہ تھے اور نہ آپ اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔“ اور یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما قصَّ الله هذه القصة على محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -؛ قال الله له: {ذلك}: [الإنباء] الذي أخبرناك به {من أنباءِ الغيبِ}: الذي لولا إيحاؤُنا إليك؛ لما وصل إليك هذا الخبر الجليل، فإنك لم تكن حاضراً {لديهم إذ أجمعوا أمْرَهم}؛ أي: إخوة يوسف. {وهم يمكُرون}: به حين تعاقدوا على التفريق بينه وبين أبيه في حالةٍ لا يطَّلع عليها إلا الله تعالى ولا يمكِّنُ أحداً أن يصل إلى علمها إلا بتعليم الله له إيَّاها؛ كما قال تعالى لما قصَّ قصةَ موسى وما جرى له؛ ذَكَرَ الحال التي لا سبيل للخلق إلى علمها إلاَّ بوحيه، فقال: {وما كنتَ بجانبِ الغربيِّ إذْ قَضَيْنا إلى موسى الأمرَ وما كنت من الشاهدين ... } الآيات؛ فهذا أدلُّ دليل على أنَّ مَن جاء بها رسول الله حقًّا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔