تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإخلاص (112) — آیت 2

اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾
اللہ ہی بے نیاز ہے۔ En
معبود برحق جو بےنیاز ہے
En
اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُ اللہ بے نیاز ہے۔ یعنی تمام حوائج میں وہی مقصود ہے۔ عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں، اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں، اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے، وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے، حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل ہے اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{اللهُ الصمدُ}؛ أي: المقصود في جميع الحوائج؛ فأهل العالم العلويِّ والسفليِّ مفتقرون إليه غاية الافتقار، يسألونَه حوائجَهم، ويرغَبون إليه في مهمَّاتهم؛ لأنَّه الكامل في أوصافه، العليم الذي قد كمل في علمه، الحليم الذي [قد] كمل في حلمه، الرحيم الذي كمل في رحمته، الذي وسعت رحمتُه كلَّ شيءٍ ... وهكذا سائر أوصافه.