اس نے کہا اے میری قوم! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ غالب ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے پھینکا ہوا بنا رکھا ہے، بے شک میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو، اس کا احاطہ کرنے والا ہے۔
En
انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے
انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیاده ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے یقیناً میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ﴾ حضرت شعیب علیہ السلام نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ یٰقَوْمِاَرَهْ٘طِیْۤاَعَزُّعَلَیْكُمْمِّنَاللّٰهِ﴾”اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے“ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذْتُمُوْهُ۠وَرَآءَؔكُمْظِهْرِیًّا﴾”اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر“ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّرَبِّیْبِمَاتَعْمَلُوْنَمُحِیْطٌ ﴾”بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے“ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال} لهم مترقِّقاً لهم: {يا قومِ أرَهْطي أعزُّ عليكم من الله}؛ أي: كيف تراعونني لأجل رَهْطي ولا تراعونني لله، فصار رَهْطي أعزَّ عليكم من الله. {واتَّخذتُموه وراءكم ظِهْرِيًّا}؛ أي: نبذتُم أمر الله وراء ظهوركم، ولم تُبالوا به، ولا خِفْتُم منه. {إنَّ ربِّي بما تعملون محيطٌ}: لا يخفى عليه من أعمالكم مثقالُ ذرَّة في الأرض ولا في السماء، فسيُجازيكم على ما عملتم أتمَّ الجزاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔