تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 82

فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہَا حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۬ۙ مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۸۲﴾
پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔ En
تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (اُلٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ (یعنی پےدرپے) کنکریاں برسائیں
En
پھر جب ہمارا حکم آپہنچا، ہم نے اس بستی کو زیر وزبر کر دیا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا تو جب ہمارا حکم آیا۔ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلْنَا کردیا ہم نے۔ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِیَهَا سَافِلَهَا اوپر نیچے یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنْضُوْدٍ تہ بہ تہ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلما جاء أمرُنا}: بنزولِ العذاب وإحلاله فيهم {جَعَلْنا}: ديارهم {عالِيَها سافِلَها}؛ أي: قلبناها عليهم، {وأمْطَرْنا عليها حجارةً من سِجِّيلٍ}؛ أي: من حجارة النار الشديدة الحرارة، {منضودٍ}؛ أي: متتابعة تتبع من شذَّ عن القرية.