تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 81

قَالُوۡا یٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنۡ یَّصِلُوۡۤا اِلَیۡکَ فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ اِلَّا امۡرَاَتَکَ ؕ اِنَّہٗ مُصِیۡبُہَا مَاۤ اَصَابَہُمۡ ؕ اِنَّ مَوۡعِدَہُمُ الصُّبۡحُ ؕ اَلَـیۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِیۡبٍ ﴿۸۱﴾
انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔ En
فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟
En
اب فرشتوں نے کہا اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ناممکن ہے کہ یہ تجھ تک پہنچ جائیں پس تو اپنے گھر والوں کو لے کر کچھ رات رہے نکل کھڑا ہو۔ تم میں سے کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھنا چاہئے، بجز تیری بیوی کے، اس لئے کہ اسے بھی وہی پہنچنے واﻻ ہے جو ان سب کو پہنچے گا، یقیناً ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے، کیا صبح بالکل قریب نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوْا فرشتوں نے لوط علیہ السلام سے کہا: ﴿ یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں۔ یعنی فرشتوں نے لوط علیہ السلام کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوط علیہ السلام کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ رات کے کسی حصہ میں یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں۔ ﴿ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمْ وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوط علیہ السلام کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوط علیہ السلام کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا: ﴿ اَلَ٘یْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ کیا صبح قریب نہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا لمَّا بَلَغَ الأمرُ منتهاه واشتدَّ الكربُ؛ {قالوا} له: {إنَّا رسلُ ربِّك}؛ أي: أخبروه بحالهم ليطمئنَّ قلبُه، {لن يَصِلوا إليكَ}: بسوءٍ. ثم قال جبريل بجناحِهِ، فطمس أعينَهم، فانطلقوا يتوعَّدون لوطاً بمجيء الصبح، وأمر الملائكةُ لوطاً أن يَسْرِيَ بأهله {بِقِطْع من الليل}؛ أي: بجانب منه قبل الفجر بكثير؛ ليتمكَّنوا من البعدِ عن قريتهم، {ولا يلتفتْ منكُم أحدٌ}؛ أي: بادروا بالخروج، وليكن همُّكم النجاءَ، ولا تلتفِتوا إلى ما وراءكم، {إلاَّ امرأتَكَ إنَّه مصيبُها}: من العذاب {ما أصابهم}؛ لأنَّها تشارِكُ قومها في الإثم، فتدلُّهم على أضياف لوطٍ إذا نزل به أضيافٌ. {إنَّ موعِدَهم الصُّبحُ}: فكأنَّ لوطاً استعجلَ ذلك، فقيل له: {أليس الصبحُ بقريبٍ}.