تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس لوط علیہ السلام کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَلَوْاَنَّلِیْبِكُمْقُوَّةًاَوْاٰوِیْۤاِلٰىرُكْ٘نٍشَدِیْدٍ ﴾”انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا“مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوط علیہ السلام سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فاشتدَّ قلقُ لوطٍ عليه الصلاة والسلام و {قال لو أنَّ لي بكم قوَّةً أو آوي إلى ركنٍ شديدٍ}؛ كقبيلة مانعةٍ؛ لمنعتكم. وهذا بحسب الأسباب المحسوسة، وإلاَّ؛ فإنَّه يأوي إلى أقوى الأركان، وهو الله الذي لا يقوم لقوته أحدٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔