تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 80

قَالَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ ﴿۸۰﴾
اس نے کہا کاش! میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ En
لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا
En
لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس لوط علیہ السلام کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْ٘نٍ شَدِیْدٍ انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتامثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوط علیہ السلام سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فاشتدَّ قلقُ لوطٍ عليه الصلاة والسلام و {قال لو أنَّ لي بكم قوَّةً أو آوي إلى ركنٍ شديدٍ}؛ كقبيلة مانعةٍ؛ لمنعتكم. وهذا بحسب الأسباب المحسوسة، وإلاَّ؛ فإنَّه يأوي إلى أقوى الأركان، وهو الله الذي لا يقوم لقوته أحدٌ.