تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 79

قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِیۡ بَنٰتِکَ مِنۡ حَقٍّ ۚ وَ اِنَّکَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِیۡدُ ﴿۷۹﴾
انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔ En
وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو
En
انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری بیٹیوں پر کوئی حق نہیں ہے اور تو ہماری اصلی چاہت سے بخوبی واقف ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا انھوں نے لوط علیہ السلام سے کہا: ﴿ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فـ {قَالُوا} له: {لقد علمتَ ما لنا في بناتِكَ من حقٍّ وإنَّك لتعلمُ ما نريدُ}؛ أي: لا نريد إلاَّ الرجال، ولا لنا رغبةٌ في النساء.