اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمھارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں؟
En
اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں
اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وه تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی، لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ ہیں میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزه ہیں، اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَجَآءَهٗقَوْمُهٗیُهْرَعُوْنَاِلَیْهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔“ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوط علیہ السلام کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَیٰقَوْمِهٰۤؤُلَآءِبَنَاتِیْهُنَّاَطْهَرُلَكُمْ ﴾”انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں۔“ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں۔ جناب لوط علیہ السلام کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوط علیہ السلام کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوااللّٰهَوَلَاتُخْزُوْنِفِیْضَیْـفِیْ﴾”پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔“ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَ٘یْسَمِنْكُمْرَجُلٌرَّشِیْدٌ ﴾”کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے“ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا وَقَعَ ما خطر بباله، فجاءه {قومُهُ يُهْرَعونَ إليه}؛ أي: يسرعون ويبادرون يريدون أضيافه بالفاحشة التي كانوا يعملونها، ولهذا قال: {ومِن قَبْلُ كانوا يعملون السِّيئاتِ}؛ أي: الفاحشة التي ما سبقهم عليها أحدٌ من العالمين. {قال يا قوم هؤلاءِ بناتي هُنَّ أطهرُ لكم}: من أضيافي ـ وهذا كما عَرَضَ سليمانُ - صلى الله عليه وسلم - على المرأتين أن يَشُقَّ الولد المختصم فيه لاستخراج الحقِّ ـ ولعلمه أنَّ بناته ممتنعٌ منالهنَّ ولا حقَّ لهم فيهنَّ، والمقصود الأعظم دفعُ هذه الفاحشة الكبرى. {فاتَّقوا الله ولا تُخْزونِ في ضيفي}؛ أي: إما أن تُراعوا تقوى الله، وإما أن تراعوني في ضَيْفي ولا تخزونِي عندهم. {أليس منكم رجلٌ رشيدٌ}: فينهاكم ويزجُرُكم. وهذا دليلٌ على مروجهم وانحلالهم من الخير والمروءة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔