تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 68

کَاَنۡ لَّمۡ یَغۡنَوۡا فِیۡہَا ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَا۠ کَفَرُوۡا رَبَّہُمۡ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوۡدَ ﴿٪۶۸﴾
جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔ سن لو! بے شک ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! ثمود کے لیے ہلاکت ہے۔ En
گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے
En
ایسے کہ گویا وه وہاں کبھی آباد ہی نہ تھے، آگاه رہو کہ قوم ﺛمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! ان ﺛمودیوں پر پھٹکار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡؔ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ سنو! دوری ہے ثمود کے لیے پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{كأن لم يَغْنَوْا فيها}؛ أي: كأنهم لما جاءهم العذاب ما تمتَّعوا في ديارهم ولا أنسوا فيها ولا تنعَّموا بها يوماً من الدَّهر، قد فارقهم النعيمُ، وتناولهم العذابُ السرمديُّ، الذي لا ينقطع، الذي كأنه لم يزل. {ألا إنَّ ثمودَ كَفَروا ربَّهم}؛ أي: جحدوه بعد أن جاءتهم الآيةُ المبصرةُ. {ألا بُعداً لِثمودَ}: فما أشقاهم وأذلَّهم! نستجير بالله من عذاب الدُّنيا وخزيها.