تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 67

وَ اَخَذَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الصَّیۡحَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دِیَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿ۙ۶۷﴾
اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھاانھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔ En
اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
En
اور ﻇالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آدبوچا، پھر تو وه اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ره گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ﴿فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰؔثِمِیْنَ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ یعنی اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے رہ گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأخذت {الذين ظلموا الصيحة}: فقطعت قلوبهم؛ {فأصبحوا في ديارهم جاثمين}؛ أي: خامدين لا حراك لهم.