اس آیت کی تفسیر آیت 67 میں تا آیت 69 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
68۔ 1 ان کی بستی یا خود یہ لوگ یا دونوں ہی، اس طرح حرف غلط کی طرح مٹا دیئے گئے، گویا وہ کبھی وہاں آباد ہی نہ تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
68۔ جیسے وہ وہاں کبھی آباد ہی نہ ہوئے تھے۔ دیکھو! ثمود نے اپنے پروردگار کا انکار کیا۔ دیکھو! یہ ثمود (بھی) دھتکار دیئے گئے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ كَاَنْلَّمْیَغْنَوْافِیْهَا﴾ گویا کہ… جب ان پر عذاب آیا…و ہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انھوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہو گا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ ﴿ اَلَاۤاِنَّثَمُوْدَاۡؔكَفَرُوْارَبَّهُمْ ﴾”سن لو، بے شک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا“ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کا انکار کیا۔ ﴿ اَلَابُعْدًالِّثَمُوْدَ ﴾”سنو! دوری ہے ثمود کے لیے“ پس کتنے بدبخت اور کس قدر ذلیل تھے ثمود! ہم دنیا کے عذاب اور اس کی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{كأن لم يَغْنَوْا فيها}؛ أي: كأنهم لما جاءهم العذاب ما تمتَّعوا في ديارهم ولا أنسوا فيها ولا تنعَّموا بها يوماً من الدَّهر، قد فارقهم النعيمُ، وتناولهم العذابُ السرمديُّ، الذي لا ينقطع، الذي كأنه لم يزل. {ألا إنَّ ثمودَ كَفَروا ربَّهم}؛ أي: جحدوه بعد أن جاءتهم الآيةُ المبصرةُ. {ألا بُعداً لِثمودَ}: فما أشقاهم وأذلَّهم! نستجير بالله من عذاب الدُّنيا وخزيها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔