پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ بے شک تیرا رب ہی بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔
En
جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) ۔ بےشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے
پھر جب ہمارا فرمان آپہنچا، ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان ﻻنے والوں کو اپنی رحمت سے اس سے بھی بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ یقیناً تیرا رب نہایت توانا اور غالب ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَمَّاجَآءَاَمْرُنَا ﴾”پس جب ہمارا حکم آگیا۔“ یعنی وقوع عذاب کا ﴿ نَجَّیْنَاصٰلِحًاوَّالَّذِیْنَاٰمَنُوْامَعَهٗبِرَحْمَةٍمِّؔنَّاوَمِنْخِزْیِیَوْمِىِٕذٍ﴾”تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے“ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ ﴿ اِنَّرَبَّكَهُوَالْقَوِیُّالْ٘عَزِیْزُ ﴾”بے شک آپ کا رب زور آور غالب ہے“ یہ اس کی قوت اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کر دیا اور انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلمَّا جاء أمرُنا}: بوقوع العذاب، {نجَّيْنا صالحاً والذين آمنوا معه برحمةٍ منَّا ومِنْ خِزْي يومِئِذٍ}؛ أي: نجيناهم من العذاب والخزي والفضيحة. {إنَّ ربَّك هو القويُّ العزيز}: ومن قوَّته وعزَّته أن أهلك الأممَ الطاغيةَ ونجَّى الرسلَ وأتباعهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔