تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 65

فَعَقَرُوۡہَا فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِیۡ دَارِکُمۡ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ وَعۡدٌ غَیۡرُ مَکۡذُوۡبٍ ﴿۶۵﴾
تو انھوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں، تو اس نے کہا اپنے گھروں میں تین دن خوب فائدہ اٹھالو، یہ وعدہ ہے جس میں کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا۔ En
مگر انہوں نے اس کی کانچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تم تین دن (اور) فائدہ اٹھا لو۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا
En
پھر بھی ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے، اس پر صالح نے کہا کہ اچھا تم اپنے گھروں میں تین تین دن تک تو ره سہ لو، یہ وعده جھوٹا نہیں ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ پس انھوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو کہا یعنی جناب صالح علیہ السلام نے ﴿ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰ٘ثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو گا بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فعقروها فقال}: لهم صالحٌ: {تمتَّعوا في دارِكُم ثلاثة أيَّام ذلك وعدٌ غير مكذوبٍ}: بل لا بدَّ من وقوعه.