تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 64

وَ یٰقَوۡمِ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمۡ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلۡ فِیۡۤ اَرۡضِ اللّٰہِ وَ لَا تَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمۡ عَذَابٌ قَرِیۡبٌ ﴿۶۴﴾
اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمھارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائو، ورنہ تمھیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔ En
اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا
En
اور اے میری قوم والو! یہ اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزه ہے اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو اور اسے کسی طرح کی ایذا نہ پہنچاؤ ورنہ فوری عذاب تمہیں پکڑ لے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیٰقَوْمِ هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دودھ پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لیے مقرر ہوگا۔ ﴿ فَذَرُوْهَا تَاْكُ٘لْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ پس تم اسے چھوڑ دو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں یعنی تم پر اونٹنی کے چارہ وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ﴿ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا۔ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا ﴿ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَ٘رِیْبٌ ورنہ تمھیں بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويا قوم هذه ناقةُ الله لكم آيةً}: لها شِرْبٌ من البئر يوماً، ثم يشربون كلُّهم مِنْ ضَرْعها، ولهم شِرْبُ يوم معلوم، {فَذَروها تأكُلْ في أرض الله}؛ أي: ليس عليكم من مؤنتها وعلفها شيءٌ، {ولا تمسُّوها بسوءٍ}؛ أي: بعقرٍ؛ {فيأخُذَكم عذابٌ قريبٌ}.