تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 53

قَالُوۡا یٰہُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَّ مَا نَحۡنُ بِتَارِکِیۡۤ اٰلِہَتِنَا عَنۡ قَوۡلِکَ وَ مَا نَحۡنُ لَکَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۳﴾
انھوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سے ہرگز چھوڑنے والے نہیں اور نہ کسی طرح تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔ En
وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں
En
انہوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو ﻻیا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان ﻻنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا انھوں نے ہود علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہود علیہ السلام ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔
اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہود علیہ السلام کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَرَبِّكُمْ میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے ﴿قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُ٘شْ٘رِكُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ فَؔكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہود علیہ السلام لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہود علیہ السلام کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔
کفار نے کہا: ﴿ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں۔ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہود علیہ السلام کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقالوا رادِّين لقوله: {يا هودُ ما جئتَنا ببيِّنةٍ}: إن كان قصدُهم بالبينة البينة التي يقترحونها؛ فهذه غير لازمة للحقِّ، بل اللازم أن يأتي النبيُّ بآية تدلُّ على صحة ما جاء به، وإن كان قصدُهم أنه لم يأتهم ببيِّنة تشهدُ لما قاله بالصحة؛ فقد كذبوا في ذلك؛ فإنَّه ما جاء نبيٌّ لقومه إلاَّ وبعث الله على يديه من الآيات ما يؤمن على مثله البشر، ولو لم يكن له آية إلاَّ دعوتُه إياهم لإخلاص الدين لله وحده لا شريك له، والأمر بكلِّ عمل صالح وخُلُق جميل، والنهي عن كلِّ خُلُق ذميم من الشرك بالله والفواحش والظُّلم وأنواع المنكرات، مع ما هو مشتملٌ عليه هودٌ عليه السلام من الصفات التي لا تكون إلاَّ لخيار الخلق وأصدقهم، لكفى بها آيات وأدلة على صدقه، بل أهل العقول وأولو الألباب يرون أنَّ هذه الآية أكبر من مجرَّد الخوارق التي يراها بعض الناس هي المعجزات فقط.

ومن آياته وبيِّناته الدالة على صدقه أنَّه شخصٌ واحدٌ، ليس له أنصار ولا أعوان، وهو يصرخُ في قومه ويناديهم ويعجِزُهم ويقول لهم: إنِّي توكلتُ على الله ربِّي وربكم، {إنِّي أُشْهِدُ اللهَ واشْهَدوا أنِّي بريءٌ مما تشرِكونَ. من دونِهِ فكيدوني جميعاً ثم لا تُنظِرونِ}: وهم الأعداءُ الذين لهم السَّطوة والغَلَبة، ويريدون إطفاء ما معه من النور بأيِّ طريق كان، وهو غير مكترث منهم ولا مبال بهم، وهم عاجزون لا يقدرون أن ينالوه بشيءٍ من السُّوء، إنِّ في ذلك لآيات لقوم يعقلون. وقولهم: {وما نحنُ بتارِكي آلهتنا عن قولِكَ}؛ أي: لا نترك عبادةَ آلهتنا لمجرَّد قولِكَ الذي ما أقمتَ عليه بيِّنةً بزعمهم. {وما نحنُ لك بمؤمنينَ}: وهذا تأييس منهم لنبيِّهم هودٍ عليه السلام في إيمانهم، وأنهم لا يزالون في كفرهم يعمهون.