تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہاں چار جملوں میں ہود علیہ السلام کی قوم نے سخت ترین لفظوں میں انھیں جھٹلا کر ان پر ایمان لانے سے صاف انکار کر دیا۔ پہلے جملے میں ان پر نبوت کی ایک بھی دلیل پیش نہ کرنے کا بہتان لگایا۔ دوسرے اور تیسرے جملے میں {” مَا “} نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ کرکے کچھ بھی ہو جائے اپنے معبودوں کو چھوڑنے اور ہود علیہ السلام پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ سن کر اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبات ہو رہی ہے سب سے بری اور بیزار ہوں اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی بلا لو اور اپنے ان سب جھوٹے معبودوں کو بھی ملا لو اور تم سے جو ہو سکے مجھے نقصان پہنچا دو۔ مجھے کوئی مہلت نہ لینے دو۔“
ہود علیہ السلام کے اس فرمان پر دوبارہ غور کیجئے کہ آپ علیہ السلام نے عادیوں کے لیے اپنے اس قول میں توحید ربانی کی بہت سے دلیلیں بیان کر دیں۔ بتا دیا کہ جب اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا جب اس کے سوا کسی چیز پر کسی کا قبضہ نہیں تو پھر وہی ایک مستحق عبادت ٹھہرا۔ اور جن کی عبادت تم اس کے سوا کر رہے ہو وہ سب باطل ٹھہرے۔ اللہ ان سے پاک ہے ملک تصرف قبضہ اختیار اسی کا ہے سب اسی کی ماتحتی میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقالوا رادِّين لقوله: {يا هودُ ما جئتَنا ببيِّنةٍ}: إن كان قصدُهم بالبينة البينة التي يقترحونها؛ فهذه غير لازمة للحقِّ، بل اللازم أن يأتي النبيُّ بآية تدلُّ على صحة ما جاء به، وإن كان قصدُهم أنه لم يأتهم ببيِّنة تشهدُ لما قاله بالصحة؛ فقد كذبوا في ذلك؛ فإنَّه ما جاء نبيٌّ لقومه إلاَّ وبعث الله على يديه من الآيات ما يؤمن على مثله البشر، ولو لم يكن له آية إلاَّ دعوتُه إياهم لإخلاص الدين لله وحده لا شريك له، والأمر بكلِّ عمل صالح وخُلُق جميل، والنهي عن كلِّ خُلُق ذميم من الشرك بالله والفواحش والظُّلم وأنواع المنكرات، مع ما هو مشتملٌ عليه هودٌ عليه السلام من الصفات التي لا تكون إلاَّ لخيار الخلق وأصدقهم، لكفى بها آيات وأدلة على صدقه، بل أهل العقول وأولو الألباب يرون أنَّ هذه الآية أكبر من مجرَّد الخوارق التي يراها بعض الناس هي المعجزات فقط.
ومن آياته وبيِّناته الدالة على صدقه أنَّه شخصٌ واحدٌ، ليس له أنصار ولا أعوان، وهو يصرخُ في قومه ويناديهم ويعجِزُهم ويقول لهم: إنِّي توكلتُ على الله ربِّي وربكم، {إنِّي أُشْهِدُ اللهَ واشْهَدوا أنِّي بريءٌ مما تشرِكونَ. من دونِهِ فكيدوني جميعاً ثم لا تُنظِرونِ}: وهم الأعداءُ الذين لهم السَّطوة والغَلَبة، ويريدون إطفاء ما معه من النور بأيِّ طريق كان، وهو غير مكترث منهم ولا مبال بهم، وهم عاجزون لا يقدرون أن ينالوه بشيءٍ من السُّوء، إنِّ في ذلك لآيات لقوم يعقلون. وقولهم: {وما نحنُ بتارِكي آلهتنا عن قولِكَ}؛ أي: لا نترك عبادةَ آلهتنا لمجرَّد قولِكَ الذي ما أقمتَ عليه بيِّنةً بزعمهم. {وما نحنُ لك بمؤمنينَ}: وهذا تأييس منهم لنبيِّهم هودٍ عليه السلام في إيمانهم، وأنهم لا يزالون في كفرهم يعمهون.