تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 54

اِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعۡتَرٰىکَ بَعۡضُ اٰلِہَتِنَا بِسُوۡٓءٍ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اُشۡہِدُ اللّٰہَ وَ اشۡہَدُوۡۤا اَنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔ En
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اس سے بیزار ہوں
En
بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواه کرتا ہوں اور تم بھی گواه رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنْ نَّقُوْلُ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں: ﴿ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إن نقولُ}: فيك {إلاَّ اعتراكَ بعضُ آلهتنا بسوءٍ}؛ أي: أصابتك بخبال وجنون، فصرتَ تَهْذي بما لا يُعْقَلُ؛ فسبحان من طبع على قلوب الظالمين! كيف جعلوا أصدقَ الخلق الذي جاء بأحقِّ الحقِّ بهذه المرتبة التي يستحي العاقل من حكايتها عنهم، لولا أنَّ الله حكاها عنهم؟!