(آیت 51) ➊ {يٰقَوْمِلَاۤاَسْـَٔلُكُمْعَلَيْهِاَجْرًا …: ”فَطَرَ“ } کا اصل معنی پھاڑنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ }»[الانفطار: ۱]”اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔“ {”فَطَرَنِيْ“} سے مراد مجھے کسی گزشتہ نمونے کے بغیر پیدا فرمایا۔ ➋ { اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ:} تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ جو شخص سچے دل سے دعوت وتبلیغ اور نصیحت کی مشقت اٹھا رہا ہے اور جسے صرف اپنے رب سے اجر لینا ہے، وہ تم سے کوئی اجرت یا دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔