سن لو! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں، تاکہ اس سے اچھی طرح چھپے رہیں، سن لو! جب وہ اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ لیتے ہیں وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بے شک وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
En
دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوھرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے
یاد رکھو وه لوگ اپنے سینوں کو دہرا کیے دیتے ہیں تاکہ اپنی باتیں (اللہ) سے چھپا سکیں۔ یاد رکھو کہ وه لوگ جس وقت اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں وه اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وه ﻇاہر کرتے ہیں۔ بالیقین وه دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿ یَثْ٘نُوْنَصُدُوْرَهُمْ ﴾”وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں“﴿ لِیَسْتَخْفُوْامِنْهُ﴾”تاکہ اس (اللہ) سے پردہ کریں۔“ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لیے رکاوٹ بن جائیں تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لیے بھی تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَاحِیْنَیَسْتَغْشُوْنَثِیَابَهُمْ ﴾”سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے۔“ یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے جو کہ مخفی ترین حال ہے بلکہ ﴿ یَعْلَمُمَایُسِرُّوْنَ ﴾”وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں “ یعنی وہ جو اقوال و افعال چھپاتے ہیں ﴿وَمَایُعْلِنُوْنَ﴾”اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں “ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ﴿ اِنَّهٗعَلِیْمٌۢبِذَاتِالصُّدُوْرِ ﴾”دلوں کی باتوں کو جانتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ان ارادوں، وسوسوں اور سوچوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ سراً یا جہراً نطق زبان سے بھی ظاہر نہیں کرتے... تب تم اپنے حال کو اپنے سینے کو موڑ کر اس سے کیسے چھپا سکتے ہو؟
اس آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والوں اور آپ کی دعوت سے غافل لوگوں کے اعراض کا ذکر کرتا ہے، یعنی جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں تو شدت اعراض کی وجہ سے اپنے سینوں کو موڑ لیتے ہیں تاکہ آپ ان کو دیکھ سکیں نہ ان کو اپنی دعوت سنا سکیں اور نہ ان کو ان باتوں کی نصیحت کر سکیں جو ان کے لیے مفید ہیں۔ کیا اس اعراض سے بھی بڑھ کر اعراض کی کوئی صورت ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ انھیں وعید سناتا ہے کہ وہ ان کے تمام احوال کو جانتا ہے اور وہ اس سے مخفی نہیں ہیں اور وہ عنقریب ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن جهل المشركين وشدة ضلالهم أنهم {يَثْنون صدورَهم}؛ أي: يميلونها ليستخفوا من الله، فتقع صدورهم حاجبةً لعلم الله بأحوالهم وبصره لهيئاتهم. قال تعالى مبيناً خطأهم في هذا الظنِّ: {ألا حين يَسْتَغْشون ثيابهم}؛ أي: يتغطون بها، يعلمهم في تلك الحال التي هي من أخفى الأشياء، بل {يعلم ما يُسِرُّون}: من الأقوال والأفعال، {وما يُعْلِنون}: منها، بل ما هو أبلغُ من ذلك، وهو: {إنه عليمٌ بذات الصدور}؛ أي: بما فيها من الإرادات والوساوس والأفكار التي لم ينطقوا بها سرًّا ولا جهراً؛ فكيف تخفى عليه حالكم إذا ثنيتم صدوركم لتستخفوا منه؟!
ويُحتمل أنَّ المعنى في هذا: أن الله يذكر إعراض المكذِّبين للرسول، الغافلين عن دعوته، أنَّهم من شدَّة إعراضهم يَثْنون صدورهم؛ أي: يَحْدَوْدِبون حين يرون الرسول؛ لئلاَّ يراهم ويُسْمِعَهم دعوته ويعظَهم بما ينفعهم؛ فهل فوق هذا الإعراض شيء؟! ثم توعَّدهم بعلمه تعالى بجميع أحوالهم وأنهم لا يخفون عليه، وسيجازيهم بصنيعهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔