تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تو معلوم ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، البتہ جب بھی اللہ کی ناراضگی والا کوئی کام کرتے تو خوب چھپ کر تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپے رہیں، اسے پتا نہ چل جائے، کبھی کپڑوں اور دیواروں کے پردے کے پیچھے، کبھی سینہ دوہرا کرکے حاصل ہونے والی پوشیدگی کے ذریعے سے، مثلاً ملاوٹ کرنے کے لیے، دھوکا دینے کے لیے یا کوئی اور شنیع فعل کرنے کے لیے سینہ دوہرا کرکے اپنے خیال میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے چھپا لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یاد رکھو! خوب اچھی طرح کپڑے لپیٹ کر بھی تم جو کچھ کرتے ہو اسے بھی وہ جانتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہیں آگے جو کچھ سینوں کے حصار میں محفوظ دل کے اندر باتیں ہیں وہ انھیں بھی خوب جانتا ہے، اس لیے تمھارے یہ خیال اور یہ حرکات لغو اور باطل ہیں، ان کا تمھیں کچھ فائدہ نہیں۔
ایک تفسیر یہ ہے کہ اوپر جو فرمایا تھا: «{ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ }» (اور اگر تم پھر جاؤ تو یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) وہاں ظاہری اور جسمانی طور پر منہ پھیرنا مراد تھا اور یہاں دل سے اعراض مراد ہے، کیونکہ سینے سے مراد دل ہوتا ہے، جیسا کہ {” عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ “} سے بھی ظاہر ہے۔ {” يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ “} گویا سینے کو موڑنا محاورہ ہے، مراد دل کو موڑنا، اعراض کرنا، غلط سوچنا، بے اصل شبہات سے اپنے دل کو تسلی دینا، عقائد حقہ سے اعراض کرنا وغیرہ ہے، کیونکہ یہاں صدور سے مراد علوم صدر ہیں۔ (فتح الرحمان از شاہ ولی اللہ) مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے سینوں میں جو کفر و عناد رکھتے ہیں اسے چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چھپے ہوئے رازوں کی اطلاع نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) یہ دونوں حوالے ہمارے استاذ مرحوم نے اشرف الحواشی میں نقل کیے ہیں۔ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے ایک اور ہی مطلب منقول ہے کہ ایک صاحب نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ”کچھ لوگ اس سے حیا کرتے تھے کہ قضائے حاجت کے وقت اپنی شرم گاہوں کو آسمان کے سامنے ننگا کریں اور اپنی بیویوں سے جماع کریں تو شرم گاہوں کو آسمان کے سامنے ظاہر کریں، تو یہ آیت ان کے بارے میں اتری۔“ [بخاری، التفسیر، باب: { ألا إنہم یثنون صدورھم… }: ۴۶۸۱، ۴۶۸۲]
اس شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غلبۂ حیا کی وجہ سے قضائے حاجت اور ہم بستری کے وقت ننگا ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اس لیے وہ ایسے موقعوں پر شرم گاہ کو چھپانے کے لیے اپنے سینے کو دہرا کر لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رات کے اندھیرے میں جب وہ بستروں میں اپنے آپ کو ڈھانپ لیتے ہیں تو اس وقت بھی وہ ان کو دیکھتا اور ان کی چھپی اور علانیہ باتوں کو جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کا جذبہ اپنی جگہ بہت اچھا ہے، لیکن اس میں اتنا غلو اور زیادتی بھی صحیح نہیں، اس لیے کہ جس ذات کی خاطر وہ ایسا کرتے ہیں اس سے تو وہ پھر بھی چھپ نہیں سکتے تو پھر اس طرح کے تکلف کا کیا فائدہ؟ اگرچہ یہ تفسیرحبر الامہ سے حدیث کی صحیح ترین کتاب صحیح بخاری میں آئی ہے اور بلاشبہ درست ہے، مگر اکثر مفسرین نے فرمایا کہ آیات کے سیاق کے مطابق یہ آیت کفار کے رویے ہی سے تعلق رکھتی ہے، کیونکہ پہلے اور بعد میں مسلسل انھی کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے جو حیا کے جذبے سے ایسا کرتے تھے۔ اصول تفسیر میں اہل علم نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ صحابہ و تابعین کسی آیت کے متعلق جہاں بھی وہ منطبق ہوتی اور صادق آتی ہو کہہ دیتے ہیں{ ”نَزَلَتْ فِيْ كَذَا“} کہ یہ آیت فلاں چیز کے بارے میں اتری، اس لیے ایک ہی آیت کے کئی شان نزول صحابہ و تابعین سے مروی ہوتے ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں ہوتا بلکہ سبھی مراد ہو سکتے ہیں۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ آیت کے نزول کے وقت یا اس کے قریب ان میں سے کوئی ایک واقعہ یا چند واقعات ہی ظہور پذیر ہوئے ہوں اور دوسرے واقعات انطباق کی وجہ سے شان نزول قرار دے دیے گئے ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
یعنی اگر تمہیں بوقت ضرورت بدن کھولنے میں اللہ سے حیا آتی ہے اور اس طرح جھکے جاتے ہو تو کیا جس وقت کپڑے اتارتے اور پہنتے ہو اس وقت تمہارا ظاہر و باطن اللہ کے سامنے نہیں ہوتا؟ اور جب انسان اللہ سے کسی وقت بھی چھپ نہیں سکتا تو پھر ضرورت بشریہ سے متعلق اس قدر غلو سے کام لینا درست نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وہ اپنے سروں کو ڈھاپ لیتے اور یہ بھی مراد ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں شک کرتے تھے اور کام برائی کے کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ”برے کام یا برے عمل کے وقت وہ جھک جھک کر اپنے سینے دوہرے کر ڈالتے گویا کہ وہ اللہ سے شرما رہے ہیں، اور اس سے چھپ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ راتوں کو کپڑے اوڑھے ہوئے بھی جو تم کرتے ہو اس سے بھی اللہ تو خبردار ہے۔ جو چھپاؤ جو کھولو، جو دلوں اور سینوں میں رکھو، وہ سب کو جانتا ہے، دل کے بھید سینے کے راز اور ہر ایک پوشیدگی اس پر ظاہر ہے ‘۔
زہیر بن ابوسلمہ اپنے مشہور معلقہ میں کہتا ہے کہ ”تمہارے دلوں کی کوئی بات اللہ تعالیٰ پر چھپی ہوئی نہیں، تم گو کسی خیال میں ہو لیکن یاد رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ ممکن ہے کہ تمہارے بد خیالات پر وہ تمہیں یہیں سزا کرے اور ہو سکتا ہے کہ وہ نامہ اعمال میں لکھ لیے جائیں اور قیامت کے دن پیش کئے جائیں“ یہ جاہلیت کا شاعر ہے۔ اسے اللہ کا، اس کے کامل علم کا، قیامت کا اور اس دن کی جزا سزا کا، اعمال نامے کا اور قیامت کے دن اس کے پیش ہونے کا اقرار ہے۔
آیت میں «لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ سے چھپنا چاہتے ہیں یہی اولیٰ ہے کیونکہ اسی کے بعد ہے کہ جب یہ لوگ سوتے وقت کپڑے اوڑھ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام افعال کا جو وہ چھپ کر کریں اور جو ظاہر کریں علم ہوتا ہے
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَلَا إِنِّهُمْ تَثْنُونِي صُدُورُهُمْ» ہے۔ اس قرأت پر بھی معنی تقریباً یکساں ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن جهل المشركين وشدة ضلالهم أنهم {يَثْنون صدورَهم}؛ أي: يميلونها ليستخفوا من الله، فتقع صدورهم حاجبةً لعلم الله بأحوالهم وبصره لهيئاتهم. قال تعالى مبيناً خطأهم في هذا الظنِّ: {ألا حين يَسْتَغْشون ثيابهم}؛ أي: يتغطون بها، يعلمهم في تلك الحال التي هي من أخفى الأشياء، بل {يعلم ما يُسِرُّون}: من الأقوال والأفعال، {وما يُعْلِنون}: منها، بل ما هو أبلغُ من ذلك، وهو: {إنه عليمٌ بذات الصدور}؛ أي: بما فيها من الإرادات والوساوس والأفكار التي لم ينطقوا بها سرًّا ولا جهراً؛ فكيف تخفى عليه حالكم إذا ثنيتم صدوركم لتستخفوا منه؟!
ويُحتمل أنَّ المعنى في هذا: أن الله يذكر إعراض المكذِّبين للرسول، الغافلين عن دعوته، أنَّهم من شدَّة إعراضهم يَثْنون صدورهم؛ أي: يَحْدَوْدِبون حين يرون الرسول؛ لئلاَّ يراهم ويُسْمِعَهم دعوته ويعظَهم بما ينفعهم؛ فهل فوق هذا الإعراض شيء؟! ثم توعَّدهم بعلمه تعالى بجميع أحوالهم وأنهم لا يخفون عليه، وسيجازيهم بصنيعهم.