تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 6

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾
اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ En
اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے
En
زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہےاور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

روئے زمین پر چلنے والا ہر جاندار، خواہ انسان ہو یا حیوان، خشکی کا جانور ہو یا پانی کا جانور، ان کی خوراک اور رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ ﴿وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا اور وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یعنی وہ تمام جانداروں کے ٹھکانوں کو جانتا ہے (مُسْتَقَر) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جانور رہتے ہیں، جسے ٹھکانا بناتے ہیں اور جہاں پناہ لیتے ہیں اور (مُسْتَوْدَع) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں، اپنی آمدورفت اور مختلف احوال میں منتقل ہوتے ہیں۔ ﴿ كُ٘لٌّ یہ سب کچھ ان کے احوال کی تمام تفاصیل ﴿ فِیْؔ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ واضح کتاب میں ہے۔ یعنی ہر چیز لوح محفوظ میں مرقوم ہے، جو ان تمام حوادث و واقعات پر مشتمل ہے جو اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تمام حوادث کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ اس نے ہر چیز کی تقدیر لکھ دی ہے ہر چیز پر اس کی مشیت نافذ ہے اور ہر ایک کے لیے اس کا رزق وسیع ہے۔ دل، اس ہستی کی کفایت پر مطمئن ہو جانے چاہئیں، جو ان کے رزق کی کفالت کرتی ہے اور جس کے علم نے مخلوق کی ذات و صفات کا احاطہ کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: جميع ما دبَّ على وجه الأرض من آدميٍّ وحيوانٍ بَرِّيٍّ أو بحريٍّ؛ فالله تعالى قد تكفَّل بأرزاقهم وأقواتهم، فرزقُهم على الله. {ويعلم مستقرَّها ومستوْدَعَها}؛ أي: يعلم مستقرَّ هذه الدوابِّ، وهو المكان الذي تقيم فيه وتستقرُّ فيه وتأوي إليه، ومستودعُها المكانُ الذي تنتقل إليه في ذهابها ومجيئها وعوارض أحوالها. {كلٌّ}: من تفاصيل أحوالها {في كتابٍ مبينٍ}؛ أي: في اللوح المحفوظ، المحتوي على جميع الحوادث الواقعة، والتي تقع في السماوات والأرض، الجميع قد أحاط بها علم الله، وجرى بها قلمه، ونفذت فيها مشيئته ووسعها رزقه؛ فلتطمئنَّ القلوب إلى كفاية من تكفَّلَ بأرزاقها، وأحاط علماً بذواتها وصفاتها.