تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 42

وَ ہِیَ تَجۡرِیۡ بِہِمۡ فِیۡ مَوۡجٍ کَالۡجِبَالِ ۟ وَ نَادٰی نُوۡحُۨ ابۡنَہٗ وَ کَانَ فِیۡ مَعۡزِلٍ یّٰـبُنَیَّ ارۡکَبۡ مَّعَنَا وَ لَا تَکُنۡ مَّعَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۲﴾
اور وہ انھیں لے کر پہاڑوں جیسی موج میں چلی جاتی تھی، اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک علیحدہ جگہ میں تھا، اے میرے چھوٹے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ (شامل) نہ ہو۔ En
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
En
وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ﴿وَهِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔ یعنی کشتی نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِیْ مَوْجٍ كَالْؔجِبَالِ پہاڑوں جیسی لہروں میں اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوْحُ نِ ابْنَهٗ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا یعنی جب نوح علیہ السلام کشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ اور وہ تھا۔ یعنی نوح علیہ السلام کا بیٹا ﴿ فِیْ مَعْزِلٍ الگ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوح علیہ السلام چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْ٘كٰفِرِیْنَ بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم وصف جريانَها كأنَّا نشاهدها، فقال: {وهي تجري بهم}؛ أي: بنوح ومَنْ رَكِبَ معه {في موج كالجبال}: والله حافِظُها، وحافظُ أهلها، {ونادى نوحٌ ابنَه}: لما ركب ليركبَ معه، {وكان} ابنُه {في مَعْزِل}: عنهم حين ركبوا؛ أي: مبتعداً، وأراد منه أن يقرب ليركبَ، فقال له: {يا بنيَّ اركب معنا ولا تَكُن مع الكافرين}: فيصيُبك ما يصيبهم.