تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 41

وَ قَالَ ارۡکَبُوۡا فِیۡہَا بِسۡمِ اللّٰہِ مَجۡؔرٖىہَا وَ مُرۡسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۱﴾
اور اس نے کہا اس میں سوار ہو جائو، اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
En
نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا، اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالَ اور نوح علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارْؔكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَمُرْسٰؔىهَا اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال} نوحٌ لمن أمره الله أن يحمِلَهم: {ارْكَبوا فيها بسم الله مَجْريها ومُرْساها}؛ أي: تجري على اسم الله وترسي [على اسم الله وتجري] بتسخيره وأمره. {إنَّ ربِّي لغفورٌ رحيمٌ}: حيث غَفَرَ لنا، ورَحِمنا، ونجَّانا من القوم الظالمين.