تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوح علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارْؔكَبُوْافِیْهَابِسْمِاللّٰهِمَجْرٖؔىهَاوَمُرْسٰؔىهَا﴾”اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا“ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّرَبِّیْلَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ﴾”بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔“ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال} نوحٌ لمن أمره الله أن يحمِلَهم: {ارْكَبوا فيها بسم الله مَجْريها ومُرْساها}؛ أي: تجري على اسم الله وترسي [على اسم الله وتجري] بتسخيره وأمره. {إنَّ ربِّي لغفورٌ رحيمٌ}: حيث غَفَرَ لنا، ورَحِمنا، ونجَّانا من القوم الظالمين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔