تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 43

قَالَ سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعۡصِمُنِیۡ مِنَ الۡمَآءِ ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الۡیَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ ۚ وَ حَالَ بَیۡنَہُمَا الۡمَوۡجُ فَکَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اس نے کہا میں عنقریب کسی پہاڑ کی طرف پناہ لے لوں گا، جو مجھے پانی سے بچالے گا۔ کہا آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی تو وہ غرق کیے گئے لوگوں میں سے ہوگیا۔ En
اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا
En
اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناه میں آجاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا، نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا آج اللہ کے امر سے بچانے واﻻ کوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وه ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ اس نے کہا۔ یعنی نوح علیہ السلام کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا… کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ نوح علیہ السلام نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔
﴿ وَحَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الْ٘مُغْرَقِیْنَ ڈوبنے والوں میں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال ابنُه مكذِّباً لأبيهِ أنَّه لا ينجو إلاَّ مَنْ رَكِبَ [معه] السفينة: {سآوي إلى جبل يَعْصِمُني من الماء}؛ أي: سأرتقي جبلاً أمتنع به من الماء. فقال نوحٌ: {لا عاصِمَ اليوم من أمرِ الله إلاّ مَن رَحِمَ}: فلا يعصمُ أحداً جبلٌ ولا غيرُه، ولو تسبَّب بغاية ما يمكِنُه من الأسباب؛ لَمَا نجا إن لم يُنْجِهِ الله، {وحال بينَهما الموجُ فكانَ} الابنُ {من المغرَقين}.