تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 37

وَ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا، یقینا وہ غرق کیے جانے والے ہیں۔ En
اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیں گے
En
اورایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر اور ﻇالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر وه پانی میں ڈبو دیئے جانے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں۔ ﴿اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ بے شک یہ غرق ہوں گے یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واصنع الفُلْكَ بأعيُننا ووَحْينا}؛ أي: بحفظنا ومرأىً منَّا وعلى مرضاتنا، {ولا تخاطِبْني في الذين ظلموا}؛ أي: لا تراجِعْني في إهلاكهم، {إنَّهم مُغْرَقون}؛ أي: قد حقَّ عليهم القولُ، ونَفَذَ فيهم القدرُ.