تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاصْنَعِالْفُلْكَبِاَعْیُنِنَاوَوَحْیِنَا ﴾”اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔“ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَاتُخَاطِبْنِیْفِیالَّذِیْنَظَلَمُوْا﴾”اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا“ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں۔ ﴿اِنَّهُمْمُّغْرَقُوْنَ ﴾”بے شک یہ غرق ہوں گے“ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واصنع الفُلْكَ بأعيُننا ووَحْينا}؛ أي: بحفظنا ومرأىً منَّا وعلى مرضاتنا، {ولا تخاطِبْني في الذين ظلموا}؛ أي: لا تراجِعْني في إهلاكهم، {إنَّهم مُغْرَقون}؛ أي: قد حقَّ عليهم القولُ، ونَفَذَ فيهم القدرُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔