تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 36

وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۚۖ۳۶﴾
اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم میں سے کوئی ہرگز ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا، پس تو اس پر غمگین نہ ہو جو وہ کرتے رہے ہیں۔ En
اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان (لاچکے)، ان کے سوا کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ
En
نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان ﻻ چکے ان کے سوا اور کوئی اب ایمان ﻻئے گا ہی نہیں، پس تو ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَ٘نْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں۔ ﴿ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وأوحي إلى نوح أنَّه لن يؤمِنَ مِن قومِكَ إلاَّ مَنْ قد آمنَ}؛ أي: قد قسوا {فلا تبتئِسْ بما كانوا يفعلون}؛ أي: فلا تحزنْ ولا تبالِ بهم وبأفعالهم؛ فإنَّ الله قد مَقَتَهم وأحقَّ عليهم عذابه الذي لا يردُّ.