اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم میں سے کوئی ہرگز ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا، پس تو اس پر غمگین نہ ہو جو وہ کرتے رہے ہیں۔
En
اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان (لاچکے)، ان کے سوا کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاُوْحِیَاِلٰىنُوْحٍاَنَّهٗلَ٘نْیُّؤْمِنَمِنْقَوْمِكَاِلَّامَنْقَدْاٰمَنَ﴾”نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا“ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں۔ ﴿ فَلَاتَبْتَىِٕسْبِمَاكَانُوْایَفْعَلُوْنَ﴾”پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں “ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {وأوحي إلى نوح أنَّه لن يؤمِنَ مِن قومِكَ إلاَّ مَنْ قد آمنَ}؛ أي: قد قسوا {فلا تبتئِسْ بما كانوا يفعلون}؛ أي: فلا تحزنْ ولا تبالِ بهم وبأفعالهم؛ فإنَّ الله قد مَقَتَهم وأحقَّ عليهم عذابه الذي لا يردُّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔