اور میری نصیحت تمھیں نفع نہ دے گی اگر میں چاہوں کہ تمھیں نصیحت کروں، اگر اللہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ تمھیں گمراہ کرے، وہی تمھارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
En
اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے
تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی، گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں، بشرطیکہ اللہ کا اراده تمہیں گمراه کرنے کا ہو، وہی تم سب کا پروردگار ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَایَنْفَعُكُمْنُ٘صْحِیْۤاِنْاَرَدْتُّاَنْاَنْ٘صَحَلَكُمْاِنْكَانَاللّٰهُیُرِیْدُاَنْیُّغْوِیَكُمْ ﴾”اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوح علیہ السلام نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَرَبُّكُمْ﴾”وہ تمھارا رب ہے“ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَیْهِتُرْجَعُوْنَ ﴾”اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے“ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا ينفعكم نُصحي إنْ أردتُ أنْ أنصَحَ لكم إن كان الله يريدُ أن يُغْوِيَكم}؛ أي: إن إرادة الله غالبةٌ؛ فإنَّه إذا أراد أن يغوِيَكم لردِّكمُ الحقَّ؛ فلو حرصتُ غاية مجهودي ونصحتُ لكم أتمَّ النُّصح ـ وهو قد فعل عليه السلام ـ؛ فليس ذلك بنافع لكم شيئاً. {هو ربُّكم}: يفعلُ بكم ما يشاء ويحكُم فيكم بما يُريدُ، {وإليه تُرْجَعون}: فيجازيكم بأعمالكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔