تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے نوح علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَایَاْتِیْكُمْبِهِاللّٰهُاِنْشَآءَ ﴾”اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔“ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤاَنْتُمْبِمُعْجِزِیْنَ ﴾”اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے“ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا أجابهم نوحٌ عليه السلام بقوله: {إنَّما يأتيكم به الله إن شاءَ}؛ أي: إن اقتضتْ مشيئته وحكمتُه أن يُنْزِلَه بكم؛ فعل ذلك، {وما أنتم بمعجِزين}: لله، وأنا ليس بيدي من الأمر شيءٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔