اور میری نصیحت تمھیں نفع نہ دے گی اگر میں چاہوں کہ تمھیں نصیحت کروں، اگر اللہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ تمھیں گمراہ کرے، وہی تمھارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
En
اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے
تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی، گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں، بشرطیکہ اللہ کا اراده تمہیں گمراه کرنے کا ہو، وہی تم سب کا پروردگار ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
En
اس آیت کی تفسیر آیت 33 میں تا آیت 35 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34۔ 1 اغواء بمعنی اضلال (گمراہ کرنا ہے)۔ یعنی تمہارا کفر وجحود اگر اس مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں سے کسی انسان کو پلٹ کر آنا اور ہدایت کو اپنا لینا ناممکن ہے، تو اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر لگا دینا کہا جاتا ہے، جس کے بعد ہدایت کی کوئی امید باقی نہیں رہ جاتی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم بھی اسی خطرناک موڑ تک پہنچ چکے ہو تو پھر میں تمہاری خیر خواہی بھی کرنی چاہوں یعنی ہدایت پر لانے کی اور زیادہ کوشش کروں، تو یہ کوشش اور خیر خواہی تمہارے لئے مفید نہیں، کیونکہ تم گمراہی کے آخری مقام پر پہنچ چکے ہو۔ 34۔ 2 ہدایت اور گمراہی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں وہ تمہیں تمہارے عملوں کی جزا دے گا۔ نیکوں کو انکے نیک عمل کی جزا اور بروں کو ان کی برائی کی سزا دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ اور اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں بھی تو میری خیرخواہی تمہیں کیا فائدہ دے سکتی ہے جبکہ اللہ کو ہی یہ منظور ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کرے۔ [41] وہی تمہارا پروردگار ہے اور تم اسی کی طرف واپس جاؤ گے
[41] البتہ تمہارے عذاب پر اصرار اور ہٹ دھرمی سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ تم پر وہ عذاب آ کر رہے گا اور میں تمہاری کتنی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں اس کا کچھ فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔ پھر یہ معاملہ یہیں تک محدود نہ رہے گا کہ اللہ کا عذاب تمہیں ہلاک کر دے بلکہ آخرت میں بھی اللہ تم سب کو حاضر کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَایَنْفَعُكُمْنُ٘صْحِیْۤاِنْاَرَدْتُّاَنْاَنْ٘صَحَلَكُمْاِنْكَانَاللّٰهُیُرِیْدُاَنْیُّغْوِیَكُمْ ﴾”اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوح علیہ السلام نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَرَبُّكُمْ﴾”وہ تمھارا رب ہے“ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَیْهِتُرْجَعُوْنَ ﴾”اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے“ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا ينفعكم نُصحي إنْ أردتُ أنْ أنصَحَ لكم إن كان الله يريدُ أن يُغْوِيَكم}؛ أي: إن إرادة الله غالبةٌ؛ فإنَّه إذا أراد أن يغوِيَكم لردِّكمُ الحقَّ؛ فلو حرصتُ غاية مجهودي ونصحتُ لكم أتمَّ النُّصح ـ وهو قد فعل عليه السلام ـ؛ فليس ذلك بنافع لكم شيئاً. {هو ربُّكم}: يفعلُ بكم ما يشاء ويحكُم فيكم بما يُريدُ، {وإليه تُرْجَعون}: فيجازيكم بأعمالكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔