تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 29

وَ یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾
اور اے میری قوم! میں تم سے اس پر کسی مال کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں اور میں ان لوگوں کو دور ہٹانے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں، یقینا وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور لیکن میں تمھیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جو جہالت برتتے ہو۔ En
اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو
En
میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا ﺛواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے نہ میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں، انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں۔ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں۔ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمْ مُّلٰ٘قُوْا رَبِّهِمْ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويا قوم لا أسألُكم عليه}؛ أي: على دعوتي إياكم {مالاً}: فتستثقلون المغرم، {إنْ أجرِيَ إلاَّ على الله}: وكأنهم طلبوا منه طردَ المؤمنين الضعفاء، فقال لهم: {وما أنا بطاردِ الذين آمنوا}؛ أي: ما ينبغي لي ولا يَليق بي ذلك، بل أتلقَّاهم بالرُّحب والإكرام والإعزاز والإعظام، {إنَّهم ملاقو ربِّهم}: فمثيبهم على إيمانهم وتقواهم بجنات النعيم. {ولكنِّي أراكم قوماً تجهلون}: حيث تأمرونني بطرد أولياء الله وإبعادهم عنِّي، وحيث رددتُم الحقَّ لأنهم أتباعه، وحيث استدللتم على بطلان الحقِّ بقولكم: إني بشرٌ مثلكم، وإنَّه ليس لنا عليكم من فضل.