اس نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر زبردستی چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔
En
انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو
نوح نے کہا، میری قوم والو! مجھے بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت عطا کی ہو، پھر وه تمہاری نگاہوں میں نہ آئی تو کیا زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں، حاﻻنکہ تم اس سے بیزار ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوح علیہ السلام نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ یٰقَوْمِاَرَءَیْتُمْاِنْكُنْتُعَلٰىبَیِّنَةٍمِّنْرَّبِّیْ ﴾”اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے“ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِیْرَحْمَةًمِّنْعِنْدِهٖ ﴾”اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے“ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّیَتْعَلَیْكُمْ﴾”پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا“ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلْ٘زِمُكُمُوْهَا﴾”کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں “ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنْتُمْلَهَاكٰرِهُوْنَ ﴾”جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو“ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔
جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلْ٘زِمُكُمُوْهَاوَاَنْتُمْلَهَاكٰرِهُوْنَ ﴾”کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا {قال} لهم نوحٌ مجاوباً: {يا قوم أرأيتُم إن كنتُ على بيِّنةٍ من ربِّي}؛ أي: على يقين وجزم؛ يعني: وهو الرسول الكامل القدوة، الذي ينقاد له أولو الألباب، وتضمحِلُّ في جنب عقله عقول الفحول من الرجال، وهو الصادق حقًّا؛ فإذا قال: إني على بيِّنة من ربِّي؛ فحسبُك بهذا القول شهادةً له وتصديقاً. {وآتاني رحمةً من عنده}؛ أي: أوحى إليَّ وأرسلني ومنَّ عليَّ بالهداية، {فعُمِّيَتْ عليكم}؛ أي: خفيت عليكم وبها تثاقلتم، {أنُلْزِمُكموها}؛ أي: أنُكْرِهكم على ما تحقَّقناه، وشككتم أنتم فيه. وأنتم كارهونَ حتَّى حرصتُم على ردِّ ما جئتُ به، ليس ذلك ضارَّنا، وليس بقادح مِن يقيننا فيه، ولا قولكم وافتراؤكم علينا صادًّا لنا عمَّا كنَّا عليه، وإنَّما غايته أن يكون صادًّا لكم أنتم وموجباً لعدم انقيادكم للحقِّ الذي تزعمون أنَّه باطل؛ فإذا وصلت الحال إلى هذه الغاية؛ فلا نقدر على إكراهكم على ما أمر الله ولا إلزامكم ما نفرتُم عنه، ولهذا قال: {أنُلْزِمُكموها وأنتم لها كارهون}؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔