تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ:} اس کا مادہ {”عَمْيٌ“} ہے، اندھا ہونا، یعنی یہ بتاؤ کہ اگر تمھیں اس دلیل اور رحمت سے اندھا رکھا گیا ہو اور تمھاری بے وقوفی کی وجہ سے وہ تم پر ایسی مخفی رہی ہو کہ تم دیکھ ہی نہ سکے ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟
➌ {اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ:} یعنی کیا ہم زبردستی تمھیں اس دلیل کا قائل کر لیں اور اس رحمت کے سائے میں دھکے سے داخل کر لیں، جب کہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور دور بھاگتے ہو۔ {” اَنُلْزِمُكُمُوْهَا “} میں ایک لفظ کے اندر تین ضمیروں کو ایسے طریقے سے جمع کیا ہے کہ لفظ انتہائی خوبصورت اور واضح ہو گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا {قال} لهم نوحٌ مجاوباً: {يا قوم أرأيتُم إن كنتُ على بيِّنةٍ من ربِّي}؛ أي: على يقين وجزم؛ يعني: وهو الرسول الكامل القدوة، الذي ينقاد له أولو الألباب، وتضمحِلُّ في جنب عقله عقول الفحول من الرجال، وهو الصادق حقًّا؛ فإذا قال: إني على بيِّنة من ربِّي؛ فحسبُك بهذا القول شهادةً له وتصديقاً. {وآتاني رحمةً من عنده}؛ أي: أوحى إليَّ وأرسلني ومنَّ عليَّ بالهداية، {فعُمِّيَتْ عليكم}؛ أي: خفيت عليكم وبها تثاقلتم، {أنُلْزِمُكموها}؛ أي: أنُكْرِهكم على ما تحقَّقناه، وشككتم أنتم فيه. وأنتم كارهونَ حتَّى حرصتُم على ردِّ ما جئتُ به، ليس ذلك ضارَّنا، وليس بقادح مِن يقيننا فيه، ولا قولكم وافتراؤكم علينا صادًّا لنا عمَّا كنَّا عليه، وإنَّما غايته أن يكون صادًّا لكم أنتم وموجباً لعدم انقيادكم للحقِّ الذي تزعمون أنَّه باطل؛ فإذا وصلت الحال إلى هذه الغاية؛ فلا نقدر على إكراهكم على ما أمر الله ولا إلزامكم ما نفرتُم عنه، ولهذا قال: {أنُلْزِمُكموها وأنتم لها كارهون}؟!