تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ مَثَلُالْ٘فَرِیْقَیْنِ ﴾”مثال دو گروہوں کی“ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالْاَعْمٰىوَالْاَصَمِّ ﴾”اندھے اور بہرے کی مانند ہیں “ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالْبَصِیْرِوَالسَّمِیْعِ﴾”اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں “ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلْیَسْتَوِیٰنِمَثَلًا﴾”کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں؟“ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَاتَذَكَّـرُوْنَ ﴾”پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے“ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں، پس تم ان کو چھوڑ دو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{مَثَلُ الفريقين}؛ أي: فريق الأشقياء وفريق السعداء، {كالأعمى والأصمِّ}: هؤلاء الأشقياء. {والبصير والسميع}: مَثَل السعداء. {هل يستويان مثلاً}؟ لا يستوون مثلاً، بل بينهما من الفَرْق ما لا يأتي عليه الوصف. {أفلا تَذَكَّرون}: الأعمال التي تنفعكم فتفعلونها، والأعمال التي تضرُّكم فتتركونها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔