تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 24

مَثَلُ الۡفَرِیۡقَیۡنِ کَالۡاَعۡمٰی وَ الۡاَصَمِّ وَ الۡبَصِیۡرِ وَ السَّمِیۡعِ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿٪۲۴﴾
دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ En
دونوں فرقوں (یعنی کافرومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟
En
ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے، بہرے اور دیکھنے، سننے والے جیسی ہے۔ کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں؟ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَثَلُ الْ٘فَرِیْقَیْنِ مثال دو گروہوں کی یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ اندھے اور بہرے کی مانند ہیں یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں؟ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوْنَ پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں، پس تم ان کو چھوڑ دو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{مَثَلُ الفريقين}؛ أي: فريق الأشقياء وفريق السعداء، {كالأعمى والأصمِّ}: هؤلاء الأشقياء. {والبصير والسميع}: مَثَل السعداء. {هل يستويان مثلاً}؟ لا يستوون مثلاً، بل بينهما من الفَرْق ما لا يأتي عليه الوصف. {أفلا تَذَكَّرون}: الأعمال التي تنفعكم فتفعلونها، والأعمال التي تضرُّكم فتتركونها.