تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 25

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، بے شک میں تمھارے لیے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ En
اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (تو انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے اور پیغام پہنچانے آیا ہوں
En
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کر دینے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اور ہم نے نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ یعنی ہم نے نوح علیہ السلام کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوْمِهٖۤ ان کی قوم کی طرف۔ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {ولقد أرسلْنا نوحاً}: أول المرسلين {إلى قومه}: يدعوهم إلى الله وينهاهم عن الشرك، فقال: {إني لكم نذيرٌ مبينٌ}؛ أي: بينتُ لكم ما أنذرتكم به بياناً زال به الإشكال.